ٹوالیٹ گیمنگ ٹیکنالوجی

آ رہی ہے ٹوالیٹ گیمنگ ٹیکنالوجی باتھ بوریت کا ہدف

آپ باتھ روم میں دیواروں یا ٹائلوں پر گھورتے رہتے تھے،، یا شاید سیٹی بجاتے یا گانا گا لیتے مگر اب برطانوی کمپنی کیپٹو میڈیا نے اس مقصد کے لئے باتھ روم گیمنگ کا انتظام کر دیا ھے۔اگر پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی آ گئ تو نوجوان نسل تو باتھ روم میں ھی رھا کرے گی:)

Advertisements
شائع کردہ از creative | تبصرہ کریں

نینو ٹیکنالوجی-قسط نمبر 2

1)نینو ٹیکنالوجی کی مددسے مختصر اور تیز کمپیوٹرز کا حصول

واشنگٹن…سی ایم ڈی…امریکا اور جنوبی کوریا کے ماہرین نے ایسا ٹرانسسٹر تیار کیا ہے جس کا سائز ایک نینو میٹر ہے اور اسے دنیا کا سب سے چھوٹا ٹرانسِسٹرکہا جا رہا ہے۔ اس ٹرانسِسٹر کی تیاری میں کاربن کے چھ ایٹموں کو سونے کی دھات سے بنے دو برقی مورچوں کے بیچ میں معلق رکھا گیا ہے۔ ایک نینو میٹر والی خصوصیات کے حامل دائرے کی شکل کے اس ٹرانسِسٹر سے برقی رَو انتہائی تیزی سے ایک مورچے سے دوسرے کی جانب جاتی ہے۔ انتہائی چھوٹی ساخت کا یہ آلہ عن قریب کمپیوٹر کے اندرونی نظام سے منسلک ہوکراسے ٹھنڈا رکھے گا اور توانائی کی بچت کو بھی ممکن بنائے گا۔

2)کچھ سال میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی فوجیوں کے لیے سامان ایک سے دوسری جگہ پہنچانا آسان ہو جائےگا۔ جہاں اس وقت ایک فوجی کو 10 یا 15 کلو کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ہے وہیں کچھ سال بعد یہ صرف 10 یا 15 گرام رہ جائےگا۔

3) اسی ماہ روس میں ہونے والے ایک بزنس فورم میں نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی ایجادات کی نمائش ہو گی جس میں چھاتی کے سرطان کا پتہ چلانے والے تھرمل کیمرے، پائپ لائنوں کے اخراج کا پتہ چلانے اور صنعتی آلات کے استعمال کی مدت میں اضافہ کا باعث بننے والی خصوصی تہہ اور نینو ٹیکنالوجی سے تیار کردہ اشیاء کی نمائش ہو گی۔

4)نینو فائبر سے بننے والے پردے روشنی کو راستہ دیتے ھیں مگر شور کو نہیں۔

ہمارے گھروں میں نینا ٹیکنولوجی سے کئی تبدیلیاں آئیں گی۔ بیس پچیس سال میں مضبوط اشیاء ، پاور فل کمپیوٹروں اور ساتھ ساتھ مینوفیکچرینگ کی قیمت کم ہونے سے چھوٹے مگر اسمارٹ مٹیریل سے مکانات بنائے جائیں گے۔ جن کی دیواریں چھپ سکیں گی۔ ٹی وی کاغذ سے بھی پتلے، خود بخود صاف ہونے والے فرش ، گھر کے کچرے کی اسمبلروں کی مدد سے دوسری قابل استعمال اشیا میں صاف پانی اور غذا میں تبدیلی ممکن ہوجائےگی۔
حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں گے۔ اگر آپ کا علاقہ زلزلے کا شکار ہوا ہے تو سمارٹ مضبوط اشیاء سے بنےگھراپنے آپ کو ٹھیک کرلیں گے۔ گھر میں موجود چیزیں ہمارے موڈ اور ضروریات کے مطابق تبدیل ہوسکیں گی۔ گھر کی تمام اشیاء مائیکرو ویو کے برابر مالیکیولر مینوفیکچرینگ سسٹم سے بنا سکیں گے۔ کاروں میں حفاظتی چیزیں ہوں گی۔ ہوا میں معلق ننی منی مشین ہوں گی جو حادثے کے دوران آپ کے اردگرد پھیل کر آپ کو چوٹ لگنےسے بچائیں گی۔ کاریں خود کو درست کرلیں گی۔ بلکہ ان کو چلانے کی بھی ضرورت ختم ہوجائےگی۔ اور وہ اپنا ایندھن خود بنائیں گی۔ بعض ٹیکنولوجسٹ خیال ہے کے وہ خود اُڑیں گی بھی۔

نینو مشین ہمارے سبزے کو نقصان دینے والے کیڑوں سے بچائیں گی۔ نینوں مشین ان کیڑوں کو کھا جائیں گی جو نقصان دہ ہں ۔ گھانس کو کاٹنے والی مشین بھی چھپی نینومشین ہوں گی۔ ہم اپنی فضا کو صاف کرسکیں گے۔ ہم تمام زمینوں کے اجزا صحیح کرسکیں گے تاکہ ہر زمین کاشت کاری کے قابل ہوسکے۔ہم نابود ہوئے نباتات اور حیوانوں کو پھر سے لاسکیں گے۔ اوزون گیس کی سطح کو درست کرسکیں گے اور نیوکلیر وسٹ کا مسلہ حل ہوجائے گا۔

نیناٹیکنولوجی میں چیزیں بنانے کے لیےسب سےمفید ایٹم “ کاربن“ ہے۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ بھی کاربن سے بنتا ہے۔ جس کا نتیجہ “ گرین ہاوس افیکٹ“ ہے نینو ٹیکنالوجی سے آب و ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مفید ہوا میں تبدیل کیا جاسکے گا۔

کیونکہ مالیکیولر مینوفکچرینگ چیزوں کی ساخت میں ایٹموں کو ترتیب دیتی ہے ۔اس طرح کی مینوفکچرینگ میں کوئی ویسٹ نہیں پیدا ہوگا۔

نینو ٹیک کی بایوٹیکنالوجی میں حد سے ذیادہ استعمال ہوگا۔ ہمارے اپنے جسم کے سیل کے برابر مائکرواسکاپک مشین ہماری بدن کے اندر سفر کرسکیں گی اور ہماری بیماریوں سے متعلق معلومات جمع کریں گی۔ اور پھرمالیکیولرسرجری کی مدد سے ان کو درست کرسکیں گی۔ وائرس ، بِکٹیریا، کنسرسیل کی شناخت کر کے ان کو بغیرصحت مند ٹیسو پر اثر انداز ہوئے نکالا جاسکے گا۔ مالیکول کے تنظم کو صحیح کرکے عمر کو بھی ساکن کیا جاسکے گا۔
اور ہم خیالات کے ذریعہ ہمارے جسم کے اندر کی نینو مشینوں سے بات کرسکیں گے۔ کچھ لوگ اپنے فطری عضلہ کو مضبوط مادہ سے تبدیل کرنا چائیں گے تاکہ وہ جہازوں سے کود سکیں اور زمین پر قدم رکھیں اور چلنے لگیں۔ یا ایک تیرنے والا اپنے جسم میں غیرفطری بلڈ سیل میں اتنی آکسیجن جما کرسکے کے وہ پانی کی سطح کے نیچےآدھے گھنٹے رہ سکے۔

لیکن ابھی لافانیت پر یقین کرنا ممکن نہیں ہوا ہے۔ لیکن یہ فطری ہے کی ایسا ایک دن ممکن ہوگا۔

نینو ٹیکنالوجی ہمارے دماغ کا حصہ بن جائے گی۔ نینو ٹیکنالوجسٹ کا کہنا ہے ایک دن لائبری آف کانگرس کی ساری کتابیں بدن کے ایک سیل کے برابر کمپیوٹر میں رکھی جاسکیں گی۔ یہ کمپیوٹر انسانی دماغ کی طرح ہوگا۔ شروع شروع میں ایسے کمپیوٹر ہماری جلد کو اسکرین کی طرح استعمال کریں گے ۔ لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ دماغ سے بغیر کسی ذرائع کے بات چیت کریں گے۔ ہر انسان کے پاس تمام نالج ہوگی اور اس کا دماغ آج کے انسان سے میں ذیادہ نالج رکھے گا۔

آپ اپنے موڈ کو ہر وقت تبدیل کرسکیں گے۔

بعض سائنسدان کا کہنا ہے آنے والے دس سالوں میں ہم اسمبلر کا پہلا ماڈل بنالیں گے۔ بعض سائنسدان کا کہنا ہے کے ایسا کبھی بھی ممکن نہیں ہوگا۔ مگر ہرسائنسدان اس بات پر متفق ہے کہ ہم نینوٹیکنالوجی کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ اب ہم ان اسملبر سے پیچدہ نینو روباٹ بنائیں گے۔ یہ ہم سافٹ وئیر انجینروں پر منحصرہوگا یا کتنی جلدی ہم ارٹیفیشیل انٹیلیجنس رکھنے والے کمپیوٹر بناتے ہیں۔

شائع کردہ از نینو ٹیکنالوجی, ٹیکنالوجی, سائنس | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

ایک نیا سائنسی کرشمہ ھونے جا رھا ھے

روس  ایٹمی ریل گاڑی بنانے جا رھا ھے،
کیا یہ ایک سائنس فکشن کی کتاب میں ایک باب کی طرح لگتا ہے؟ نہیں ، یہ بات حقیقت ہے. روساتوم اور روسی ریلوے  سنجیدگی سے ایک جوہری طاقت سے چلنے والی ریل گاڑی کو تشکیل دے رہے ہیں.روسی  ریلوے کے نائب صدر ویلینٹن گاپانوچ کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک اس ٹرین کی ترتیب پیش کریں گے. ٹرین  گیارہ ویگنوں پر مشتمل ہوگی.ٹرین کے انجن میں ایک چھوٹی سا فاسٹ بریڈر رئیےکٹر ھو گا، اور اپنے ابتدائی مرحلے میں، ٹرین ایک سائنسی نمائش کا پیچیدہ نمونہ ہو گی.اسکا ڈیزائن روس کے ریاستی جوہری توانائی کے کارپوریٹ، روستم نے بنایا ہے.تعمیر کی لاگت کا تخمینہ ابھی تک واضح نہیں، اور ابھی تک  اس طرح تربیت کے مھفوظ ھونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا.یہ پہلی بار  نہیں کہ ایک جوہری طاقت کو اس طرح استعمال کرنے کا خیال پیش کیا گیا ھو. 1956 ء میں، سوویت یونین نے پہلی بار اسطرح کی نقل و حمل کے لئے ایک امکان کے طور پر جوہری پرنودن کا اعلان کیا. وزارت نے اس وقت کہا اس طرح کی ریڑھیاں شمال اور سائبیریا کے دور دراز علاقوں میں استعمال کی جا سکیں گی۔مجوزہ جوہری طاقت کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اسکو آسانی سے تبدیل کر کے دور دراز کے علاقوں اور صنعتی سائٹس کو توانائی کی فراہمی کے لیے ایک موبائل جوہری پاور پلانٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ،گویا روس اس وقت دنیا کا پہلا موبائل جوہری توانائی کا پلانٹ تعمیر کر رھا ہے.یہ رواں جوہری پاور پلانٹ سینٹ پیٹرز برگ سے چکوتکا کے دور دراز روسی آرکٹک کے علاقے تک چلے گا۔ 2012 کے آخر تک منصوبے کی تکمیل ہونا طے ہے

شائع کردہ از creative | 1 تبصرہ

نینو ٹیکنالوجی : میری نئ محبت

آجکل ھم نینو ٹیکنالوجی کے بارے میں پڑھ رھے ھیں۔مجھے تو اس مضمون سے اتنا لگاٴو ھو گیا ھے کہ آگے اسی میں ریسرچ کرنے کا ارادہ بن رھا ھے۔اللہ سے دعا ھے کہ وہ میرے اس سپنے کو پورا کرے۔آمین

چلئے بات کرتے ھیں کہ نینو ٹیکنالوجی ھے کیا،اسکے فائدے اور نقصان کیا ھیں۔اس وقت مارکیٹ میں تقریبا چھ سو کے قریب نینو پراڈکٹ آ چکے ھیں۔

’نینو‘ سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو ایک سوئی کی نوک سے تقریباً ایک ملین گنا چھوٹی ہوتی ہیں۔ ۔.نینو ٹیکنولوجی مادہ کی نینو اسکیل پر جوڑ توڑ کوکہتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آجائیں گی اگر ہم تین یا چار اٹیم کو ایک قطار میں رکھ کر اس قطار کی لمبائی ناپیں تو وہ ایک عام میٹر کا ایک بٹا ایک بیلین ہوگی۔ اسے ہم نینو میٹر کہتے ہیں۔

اس لیے اگر ہم ایسی مادی چیزیں ایجاد کریں جن میں ہم اٹیم کو ایک مقررہ جگہ نسب کریں۔ آخر الامر نینو ٹیکنولوجی کا مطلب ایسی ایجاد کرنا جس کے کام کرنے کے لیے ہر اٹیم کا ہردفعہ اس مقررہ جگہ پر موجود ہونا ضروری ہے۔اس کاریگری کا نام نینو ٹیکنولوجی ہے۔

دوسری طرح نینوں ٹیکنولوجی کی قطعی ہئیت کو اسطرح بھی سوچا جاسکتا ہے کہ وہ ذروں یا ساملیت کی مشینری ہے۔ مشین جس میں اس مشین کے کام کرنے کے لیے اٹیم اس کے مخصوص مقام پر ہو اور وہ اس مشین کا کی طرح کام کرنے جس پر اس کا ماڈل پر اس کو بنایا گیا ہے۔ یہ اٹموں سے بنی ہوئی مشین ایسی دوسری مشین بنانے ے قابل ہوسکتی جس میں اٹیم کو مخصوص طریقے سے ترتیب دیےکر ایک نئے چیز بنا ئے۔ یہ ذروں یا ساملیت کی مشینری جو اٹیم کو ایک مرکب بناوٹ میں جوڑ تی ہے “ اسیمبلر“ کہلاتی ہے۔

تقریباً ہر چیز جو موجود ہے یا ڈیئزائن کی جاسکتی ہے ۔یہ اسیملبر بناسکتےہیں۔ یعنی کوئی بھی چیز جو فزکس کے بنیادی اصول ہر کام کرتی ہے بنائی جا سکتی ہے۔ یہاں تک کہ اسیملبر خود کی بھی کاپی بناسکتے ہیں ۔ ایک وقت ایسا آئے گا جب ہماری بڑے پیمانے پر اشیا تیار کرنے اقتصادیات۔ معاشیات ۔ سالمیت مینوفیکچرینگ پر منحصر ہوگی۔جہاں سرمایہ پر منحصر معشیات بنست سالوں کے منٹوں میں دوگنا ہوجائے گی اور اس سے بے تحاشہ دولت بنے گئ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ صرف پانچ سال بعدتین دن میں ختم ہوجانے والی بیٹریوں پر لوگ ہنسیں گے کیونکہ نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے کئی سال تک چلنے والی بیٹریاں بنائی جا چکی ہونگی۔

امریکہ کی ایم آئی ٹی یونورسٹی میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کچھ سال میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی فوجیوں کے لیے سامان ایک سے دوسری جگہ پہنچانا آسان ہو جائےگا۔ جہاں اس وقت ایک فوجی کو 10 یا 15 کلو کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ہے وہیں کچھ سال بعد یہ صرف 10 یا 15 گرام رہ جائےگا۔نینو ٹیکنالوجی سے انسانیت کو بہت فائدے ہو سکتے ہیں۔
تاہم  اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں خاص طور پر نہایت ہی چھوٹے گرد کے اشیاء یا ’نینو ٹیوب پارٹکلز‘ جو سانس لیتے وقت انسان کے اندر جا سکتے ہیں.نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہروں اور سالمہوں کا استعمال کرکے چیزوں کو غیر معمولی کردار دیے جا سکتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ طبی اور صنعتی تحقیق کے لیے نہایت ہی مفید ثابت ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہایت ہی چھوٹے درجہ پر اشاء کے غیر معمولی کردار کو بہتر مشینیں بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مگر اس سائنس کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے وائرس سے بھی چھوٹی مشینیں دنیا پر قبضہ کر کے اسے تباہ کر دیں گی۔ ماہرین کے مطابق ایسی باتیں بالکل غلط اور خیالی ہیں۔اس ٹیکنالوجی کا مستقبل بہت ہی روشن مانا جارہا ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال بار بار اٹھنے لگا ہے کہ اس تیکنیک سے بنے پیداوار کتنے محفوظ ہیں۔ کئی خاص ریسرچوں اور مختلف ملکوں کی حکومتی رپورٹوں میں اس کے حفاظتی پہلو پر شک ظاہر کیا گیا ہے۔
نینو  دنیا بھر میں حکومتی اختیارات سے دور رہی۔ لیکن اب اس پر کچھ قوانین لاگو کرنے کی بات چل رہی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کے صحت اور ماحول کو بھاری نقصان پہونچ سکتا ہے۔ نینو ”رامیٹریل” ‘کچامال’ اور اصل وہ ساری چیزی ہیں جو جاندار اور بے جان کے پیدائش میں خاص ”بلڈنگ بلاک” یا مکان میں استعمال ہونے والی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
نینو میں مادہ کا استعمال بہت ہی چھوٹی سطح پر ہوتا ہے۔ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے، یعنی ہائیڈروجن کے دس ایٹم ایک کے بعد ایک جوڑیں تو وہ ایک نینو میٹر ہوگا۔ ایک ڈی این اے مالیکویل ڈھائی نینو میڑ ہوتا ہے۔
خون کا ایک خلیہ 5000 نینو میٹر کا ہوتا ہے اور انسان کے ایک اکیلے بال کی موٹائی 80000 نینو میٹر ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نینو انجینئرنگ میں کس طرح انتہائی چھوٹی سطح پر کام ہوتا ہے۔ نینو میں مادہ کا انتہائی چھوٹا سائز تو ہوتا ہی ہے اس کے صفات بھی بدل جاتے ہیں۔ تابنے کو نینو کے درجہ پر لانے پر وہ اتنا لچیلا ہوجاتا ہے کہ کمرے کی حرارت پر ہی اسے کھینچ کر عام تانبے کے مقابلے میں پچاس گنا لمبا تار بناسکتے ہیں۔ نینو کے درجے پر سیدھی سادی بے ضرر چیزیں بھی بہت زہلی ہوسکتی ہیں۔
اس کے ذریعے جاندار خلیوں اور دوسرے ماددوں کو بے جان ایٹموں کے ساتھ جوڑ کر کئی چیزیں بنائی جارہی ہیں۔ آج اس ٹیکنالوجی سے تیار کئے گئے سامان بازار میں آنے لگے ہیں۔ چائے، کافی اور کھانے پینے کے چیزوں کے گرنے سے پڑنے والے نشان نہیں قبول کرنے والے کپڑے اور دوا سے لے سنگار ‘فیشن’ کی چیزیں تک بننے لگی ہیں۔
ایسا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس طرح سے بنی دوا یا کریم جسم کے کچھ خلیوں میں گھس کر انہیں تہس نہس کرسکتے ہیں، ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا ”بلڈ برین بیرئر” نام کی اس چیز کو ختم کرسکتے ہیں۔ دماغ اور خون کے درمیان بنائی گئی نازک سی اس سرحد کو پار کرنا ادویات کے لئے مشکل ہے۔ کھانے پینے اور ادویات میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال ہونے پر جہاں خوش ہونے والے بہت ہیں، وہیں سائنسدانوں اور ماحولیات کا خیال کرنے والوں کو فکر ہورہی ہے۔

مثال کےطور پر الیمینیم ایک غیر غیر جانبدار دھات ہے جو عام حالات میں کبھی آگ نھیں پکڑتا، اور ہم ایلومینیم کے بنے برتنوں میں کھانا کھاتے ھیں۔مگر نینو لیول پر  اس میں اس طرح کی تبدیلیاں آتی حیں کہ وہ آگ پکڑ لیتا ھے۔اور ایک نینو بم کے طور پر استعمال ھو سکتا ھے – ایلومینیم جو سستا اور مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہے ،بھت مثابت ھو سکتا ھے۔
نانو ذرات سے بنا ریٹینا(یعنی آنکھ کی پتلی) ٹشو گرافٹ  ریجیکشن کا مسئلہ دور کر دے گا۔اسکے اور بھی بے تہاشا فوائد ھیں۔

ابھی  مجھے جانا ہے اور میں وقت کی قلت کا شکار ہوں ،  تو میں ایک علیحدہ پوسٹ میں اسکی مزید تفصیل لکھوں گا.تو اب اجازت!
اللہ نگہبان

شائع کردہ از creative | 1 تبصرہ

بائیو انفارمیٹکس کیا ھے؟

اکژ مجھ سے لوگ میری فیلڈ کے متعلق پوچھتے ھیں کہ بائیو انفارمیٹکس کیا ھے اور اس میں ڈگری ھاصل کرنے کے بعد مجھے کیا نوکری مل سکتی ھے۔تو میں نے سوچا کہ بلاگ پر لکھ دوں تاکہ باقی بھی مستنفید ھو سکیں۔
اس میں ریاضی،بیالوجی اور کمپیوٹر سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے ھیں۔بائیو انفارمیٹکس کا بنیادی مقصد حیاتیاتی عمل کی تفہیم کی ہے. ڈی این اے  کے علاقے میں تحقیق کی کوششوں ترتیب صف بندی، جین کی تلاش، جینوم اسمبلی، منشیات کے ڈیزائن، منشیات کی دریافت، پروٹین کی ساخت کی جانچ، پروٹین کی ساخت کی پیشن گوئی، جین اظہار اور پروٹین پروٹین کے ساتھ روابط، جینوم وسیع ایسوسی ایشن کے مطالعہ کی پیشن گوئی اور  خلیوں کی  ماڈلنگ وغیرہ اس  میں شامل ھیں .

معلوماتیہءحیاتیات ؛ جسکو اخباریہء حیاتیات بھی کہا جاسکتا ہے ، کو انگریزی میں (Bioinformatics) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نسبتاً نیا مگر انتہائی تیز رفتاری سے وسیع ہونے والا شبعہءعلم ہے کہ جسمیں حیاتیاتی معلومات و مواد (data) کو شمارندی طرزیات (computer technology) کی مدد سے ذخیرہ و تجزیہ کیا جاتا ہے۔

مزید سادہ الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں کہ حیاتیاتی معلومات یا خبروں اور اطلاعات کا کمپیوٹر کی مدد سے مطالعہ کرنے کا علم معلوماتیہءحیاتیات کہلاتا ہے۔اس میں تخلیق اور ڈیٹا بیس، ایلگوردم، کمپیوٹر اور اعداد و شمار کی تراکیب   کے زریعے انتظام اور حیاتیاتی اعداد و شمار کے تجزیہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کیا جاتا ھے۔لیبارٹری میں جس ریسرچ پر کئ سال لگ جاتے تھے،وہ کمپیوٹر کی مدد سے چند مھینوں میں بو جاجی ھے۔اس سے طب کی فیلڈ کو بھت فائدہ پھنچتا ھے۔اس فیلڈ میں بے تہاشا نوکریاں ھیں مگر پاکستان میں ابھی اس شعبے میں اتنی ترقی نھیں ھوئی اسلئے فلہال نوکریاں محدود ھیں۔

انڈیا اس میں پورے ایشیا میں سب سے آگے ھے۔وہاں 1980 سے اس پر کام ھو رہا ھے،اور وہ اسی وجہ سے میڈیکل ریسرچ کے لئے بیرون ممالک سے ملنے والی ریسرچ ایڈ اور حصص کا مالک بھی ھے۔

اس فیلڈ میں بے تہاشا نوکریاں ھیں مگر پاکستان میں ابھی اس شعبے میں اتنی ترقی نھیں ھوئی اسلئے فلہال نوکریاں محدود ھیں۔
شائع کردہ از ٹیکنالوجی, بائیو انفارمیٹکس, سائنس | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں

بڑھتے ھوئے سی این جی سٹیشن اور گیس کی لوڈ شیڈنگ

پاکستان میں موسم سرما میں قدرتی گیس کے استعمال اور پیدوار میں آٹھ سو ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ کا فرق پڑ جاتا ہے جسے اس سال گیس کی باضابطہ لوڈشیڈنگ کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے۔پاکستان میں قدرتی گیس کی یومیہ پیداوار ساڑھے تین ارب کیوبک فٹ ہے۔سوئی ناردرن گیس کا کہنا ہے کہ گیس کے استعمال میں موسم سرما کے دوران ہونے والے اضافے کو لوڈشیڈنگ کے ذریعے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ویسے تو سی این جی سٹیشنز صنعت کے تیس فیصد حصے کے مقابلے میں دس فیصد سے بھی کم گیس استعمال کرتے ہیں لیکن شہری علاقوں میں ہونے کے باعث سی این جی سٹیشنز گھریلو صارفین کے لیے بچھائے گئے پائپ سے گیس استعمال کرتے ہیں جس سے گھروں کو گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔گیس فراہم کرنے والے پائپ لائنز میں کم دباؤ کے باعث فراہمی میں خلل پڑتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ سی این جی سٹیشنز کے باعث پیدا ہوتا ہے۔جس دن سی این جی کی گیس فراھمی بند ھونے کا اعلان بھی ھو،پھر بھی گیس گاڑیوں میں بھرائی جا رھی ھوتی ھے جو رشوت دے کر بھری جاتی ھے اور گھروں کو یس دن بھی نہیں ملتی۔سردی میں نہ تو ھیٹر ھے اور نہ کھانا بن پاتا ھے۔تندور والوں کے نخرے آسمانوں کو چھؤ رھے ھیں۔

شائع کردہ از creative | تبصرہ کریں

ناموس رسالت قانون میں نہ تبدیلی ہوگی نہ غلط استعمال کرنے دیں گے،وزیراعظم گیلانی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں لیکن کسی بھی قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی کی سطح پر ایک کمیٹی قائم کی تھی تاکہ وہ اس امر کا جائزہ لے کہ اس کے ارکان کی طرف سے قانون سازی کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدام کی توثیق بھی کی جا سکتی ہے یا نہیں، تشدد کے واقعات سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے اور مغرب میں ان واقعات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور اس سے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلام کا صحیح تشخص اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام کی مذہبی رواداری پر مبنی اقدار کو فروغ دینا چاہئے،عقیدے کے سلسلے میں کسی قسم کی زورزبردستی کی اجازت نہیں، اسلام کی درست تشریح اورمعاشرے میں تحمل ، برداشت اور رواداری کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دہشتگردی نے دنیا کا سکون تباہ کر دیا ، انتہا پسندی اور رجعت پسندی کا راستہ انحطاط اور تباہی کا راستہ ہے، مسلمان اقوام ِ عالم کی فکری ، سائنسی، اقتصادی اورسیاسی میدان میں قیادت کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں،ہمیں ہر قسم کے اختلافات کوبھلا کر ملّتِ اسلامیہ کی سلامتی اورخوش حالی کی طرف دھیان دینا ہو گا،علماء کرام اسلام کی صحیح ترجمانی کریں۔ وہ منگل کو یہاں "اسلام میں مذہبی رواداری” کے موضوع پر علماء مشائخ کانفرنس 2011ء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرمذہبی امور سید خورشید احمد شاہ اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور شگفتہ جمانی کے علاوہ بڑی تعداد میں علماء کرام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہاکہ آج کی دنیاسائنس و ٹیکنالوجی کی دُنیا ہے ، ایک طرف تو انسان تیزی سے آگے ہی آگے بڑھتاچلا جارہا ہے، جب کہ دوسری طرف اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ انسان خوف وہراس، بھوک و افلاس ، ظلم وتشدد اوردہشت کے گہرے جہنم میں گرتا جارہا ہے۔

بشکریہ جنگ

شائع کردہ از creative | تبصرہ کریں

بینک لوٹنا

یہ سچ  میں بہت آسان ہے.سب سے پہلے ایک تجارتی دفتر میں شامل ہو.  دوسروں کے اعتماد کو حاصل کرو،اپنی ریپوٹیشن بناؤ۔ .دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر بینک میں طور پر کرنسی کو کافی مقدار میں نہیں رکھتا، سب سے اچھا طریقہ کسی   ایک الیکٹرانک ٹائپ چوری ھے، شاید لمبی دوڑ، کافی اندر کی معلومات اور تحقیق کے ساتھ ایک چوری، یا جب معلوم ہو گا کہ  کرنسی کہاں موجود ہے ،تو شائ چوری کامیاب ھو سکے. "روسی ہیکروں نے سٹی بینک کی طرف سے لاکھوں چرایا ہے” ایک اچھی مثال کی طرح لگتا ہے — شاید وہاں بھی ہیج فنڈ یا دوسرے تاجروں اور پھر آگے چل رہا کاروبار کے خلاف جاسوسی کی تنظیم یا دوسری صورت میں defrauding یا بلاواسطہ طور پر چوری کی طرف سے کئے جانے کے لئے تہقیقات زیادہ ہئں.گن پوائنٹ پر ھی وصولی فائدہ مند  ہو سکتی ہے.اگر آپ  جسمانی حملوں اور تشدد میں کمزور ھیں تو بدماش، منشیات فروشوں، ، یا دیگر مجرمانہ پیشے سے منسوب لوگوں کو کرائے پر بھی حاصل کر سکتے ھیں، بشرطیکہ وہ اس کے بعد غائب ہو جائیں اور اپکا پول نہ کھلے، یا کسی بھی طرح سے اس تنظیم کو تباہ کر دیں تاکہ اپکا سراغ  نہیں لگے.یا کرایہ پر سیکورٹی گارڈ کی وردی، ایک جرمن شیفرڈ اور ایک بھاری کینوس کا بیگ لے لیں. رات جمع باکس پر ایک "سے آرڈر کی” لاگ ان جگہ اور دوسری طرف سے پیسے وصول کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ.

شائع کردہ از creative | تبصرہ کریں

وکی پیڈیا 10 برسوں بعد کیسا نظر آئے گا؟

اس ہفتے کے آخر میں، سب کی پسندیدہ ویکیپیدیا بڑے پیمانے پر اپنی دسویں سالگرہ منائے گا۔ بدھ کی صبح، ہم وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز اور وکی میڈیا فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیو گارڈنر کے ساتھ فون پر بات کر کے سائٹ کے ماضی اور، زیادہ اہم بات، اس کے مستقبل کے بارے میں معلوم کریں گے.
مجموعی طور پر، استعمال اور انٹرفیس آئندہ بہتری کی فہرست پر ضرور ھیں۔ آسان ترمیم کا اختیاربھی ھو گا۔.

یہ قارئین کا اوزار ہے  آف لائن مطالعہ کے لئے بھی ملے گا۔

شائع کردہ از creative | تبصرہ کریں