نینو ٹیکنالوجی : میری نئ محبت

آجکل ھم نینو ٹیکنالوجی کے بارے میں پڑھ رھے ھیں۔مجھے تو اس مضمون سے اتنا لگاٴو ھو گیا ھے کہ آگے اسی میں ریسرچ کرنے کا ارادہ بن رھا ھے۔اللہ سے دعا ھے کہ وہ میرے اس سپنے کو پورا کرے۔آمین

چلئے بات کرتے ھیں کہ نینو ٹیکنالوجی ھے کیا،اسکے فائدے اور نقصان کیا ھیں۔اس وقت مارکیٹ میں تقریبا چھ سو کے قریب نینو پراڈکٹ آ چکے ھیں۔

’نینو‘ سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو ایک سوئی کی نوک سے تقریباً ایک ملین گنا چھوٹی ہوتی ہیں۔ ۔.نینو ٹیکنولوجی مادہ کی نینو اسکیل پر جوڑ توڑ کوکہتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آجائیں گی اگر ہم تین یا چار اٹیم کو ایک قطار میں رکھ کر اس قطار کی لمبائی ناپیں تو وہ ایک عام میٹر کا ایک بٹا ایک بیلین ہوگی۔ اسے ہم نینو میٹر کہتے ہیں۔

اس لیے اگر ہم ایسی مادی چیزیں ایجاد کریں جن میں ہم اٹیم کو ایک مقررہ جگہ نسب کریں۔ آخر الامر نینو ٹیکنولوجی کا مطلب ایسی ایجاد کرنا جس کے کام کرنے کے لیے ہر اٹیم کا ہردفعہ اس مقررہ جگہ پر موجود ہونا ضروری ہے۔اس کاریگری کا نام نینو ٹیکنولوجی ہے۔

دوسری طرح نینوں ٹیکنولوجی کی قطعی ہئیت کو اسطرح بھی سوچا جاسکتا ہے کہ وہ ذروں یا ساملیت کی مشینری ہے۔ مشین جس میں اس مشین کے کام کرنے کے لیے اٹیم اس کے مخصوص مقام پر ہو اور وہ اس مشین کا کی طرح کام کرنے جس پر اس کا ماڈل پر اس کو بنایا گیا ہے۔ یہ اٹموں سے بنی ہوئی مشین ایسی دوسری مشین بنانے ے قابل ہوسکتی جس میں اٹیم کو مخصوص طریقے سے ترتیب دیےکر ایک نئے چیز بنا ئے۔ یہ ذروں یا ساملیت کی مشینری جو اٹیم کو ایک مرکب بناوٹ میں جوڑ تی ہے “ اسیمبلر“ کہلاتی ہے۔

تقریباً ہر چیز جو موجود ہے یا ڈیئزائن کی جاسکتی ہے ۔یہ اسیملبر بناسکتےہیں۔ یعنی کوئی بھی چیز جو فزکس کے بنیادی اصول ہر کام کرتی ہے بنائی جا سکتی ہے۔ یہاں تک کہ اسیملبر خود کی بھی کاپی بناسکتے ہیں ۔ ایک وقت ایسا آئے گا جب ہماری بڑے پیمانے پر اشیا تیار کرنے اقتصادیات۔ معاشیات ۔ سالمیت مینوفیکچرینگ پر منحصر ہوگی۔جہاں سرمایہ پر منحصر معشیات بنست سالوں کے منٹوں میں دوگنا ہوجائے گی اور اس سے بے تحاشہ دولت بنے گئ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ صرف پانچ سال بعدتین دن میں ختم ہوجانے والی بیٹریوں پر لوگ ہنسیں گے کیونکہ نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے کئی سال تک چلنے والی بیٹریاں بنائی جا چکی ہونگی۔

امریکہ کی ایم آئی ٹی یونورسٹی میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کچھ سال میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی فوجیوں کے لیے سامان ایک سے دوسری جگہ پہنچانا آسان ہو جائےگا۔ جہاں اس وقت ایک فوجی کو 10 یا 15 کلو کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ہے وہیں کچھ سال بعد یہ صرف 10 یا 15 گرام رہ جائےگا۔نینو ٹیکنالوجی سے انسانیت کو بہت فائدے ہو سکتے ہیں۔
تاہم  اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں خاص طور پر نہایت ہی چھوٹے گرد کے اشیاء یا ’نینو ٹیوب پارٹکلز‘ جو سانس لیتے وقت انسان کے اندر جا سکتے ہیں.نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہروں اور سالمہوں کا استعمال کرکے چیزوں کو غیر معمولی کردار دیے جا سکتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ طبی اور صنعتی تحقیق کے لیے نہایت ہی مفید ثابت ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہایت ہی چھوٹے درجہ پر اشاء کے غیر معمولی کردار کو بہتر مشینیں بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مگر اس سائنس کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے وائرس سے بھی چھوٹی مشینیں دنیا پر قبضہ کر کے اسے تباہ کر دیں گی۔ ماہرین کے مطابق ایسی باتیں بالکل غلط اور خیالی ہیں۔اس ٹیکنالوجی کا مستقبل بہت ہی روشن مانا جارہا ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال بار بار اٹھنے لگا ہے کہ اس تیکنیک سے بنے پیداوار کتنے محفوظ ہیں۔ کئی خاص ریسرچوں اور مختلف ملکوں کی حکومتی رپورٹوں میں اس کے حفاظتی پہلو پر شک ظاہر کیا گیا ہے۔
نینو  دنیا بھر میں حکومتی اختیارات سے دور رہی۔ لیکن اب اس پر کچھ قوانین لاگو کرنے کی بات چل رہی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کے صحت اور ماحول کو بھاری نقصان پہونچ سکتا ہے۔ نینو ”رامیٹریل” ‘کچامال’ اور اصل وہ ساری چیزی ہیں جو جاندار اور بے جان کے پیدائش میں خاص ”بلڈنگ بلاک” یا مکان میں استعمال ہونے والی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
نینو میں مادہ کا استعمال بہت ہی چھوٹی سطح پر ہوتا ہے۔ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے، یعنی ہائیڈروجن کے دس ایٹم ایک کے بعد ایک جوڑیں تو وہ ایک نینو میٹر ہوگا۔ ایک ڈی این اے مالیکویل ڈھائی نینو میڑ ہوتا ہے۔
خون کا ایک خلیہ 5000 نینو میٹر کا ہوتا ہے اور انسان کے ایک اکیلے بال کی موٹائی 80000 نینو میٹر ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نینو انجینئرنگ میں کس طرح انتہائی چھوٹی سطح پر کام ہوتا ہے۔ نینو میں مادہ کا انتہائی چھوٹا سائز تو ہوتا ہی ہے اس کے صفات بھی بدل جاتے ہیں۔ تابنے کو نینو کے درجہ پر لانے پر وہ اتنا لچیلا ہوجاتا ہے کہ کمرے کی حرارت پر ہی اسے کھینچ کر عام تانبے کے مقابلے میں پچاس گنا لمبا تار بناسکتے ہیں۔ نینو کے درجے پر سیدھی سادی بے ضرر چیزیں بھی بہت زہلی ہوسکتی ہیں۔
اس کے ذریعے جاندار خلیوں اور دوسرے ماددوں کو بے جان ایٹموں کے ساتھ جوڑ کر کئی چیزیں بنائی جارہی ہیں۔ آج اس ٹیکنالوجی سے تیار کئے گئے سامان بازار میں آنے لگے ہیں۔ چائے، کافی اور کھانے پینے کے چیزوں کے گرنے سے پڑنے والے نشان نہیں قبول کرنے والے کپڑے اور دوا سے لے سنگار ‘فیشن’ کی چیزیں تک بننے لگی ہیں۔
ایسا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس طرح سے بنی دوا یا کریم جسم کے کچھ خلیوں میں گھس کر انہیں تہس نہس کرسکتے ہیں، ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا ”بلڈ برین بیرئر” نام کی اس چیز کو ختم کرسکتے ہیں۔ دماغ اور خون کے درمیان بنائی گئی نازک سی اس سرحد کو پار کرنا ادویات کے لئے مشکل ہے۔ کھانے پینے اور ادویات میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال ہونے پر جہاں خوش ہونے والے بہت ہیں، وہیں سائنسدانوں اور ماحولیات کا خیال کرنے والوں کو فکر ہورہی ہے۔

مثال کےطور پر الیمینیم ایک غیر غیر جانبدار دھات ہے جو عام حالات میں کبھی آگ نھیں پکڑتا، اور ہم ایلومینیم کے بنے برتنوں میں کھانا کھاتے ھیں۔مگر نینو لیول پر  اس میں اس طرح کی تبدیلیاں آتی حیں کہ وہ آگ پکڑ لیتا ھے۔اور ایک نینو بم کے طور پر استعمال ھو سکتا ھے – ایلومینیم جو سستا اور مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہے ،بھت مثابت ھو سکتا ھے۔
نانو ذرات سے بنا ریٹینا(یعنی آنکھ کی پتلی) ٹشو گرافٹ  ریجیکشن کا مسئلہ دور کر دے گا۔اسکے اور بھی بے تہاشا فوائد ھیں۔

ابھی  مجھے جانا ہے اور میں وقت کی قلت کا شکار ہوں ،  تو میں ایک علیحدہ پوسٹ میں اسکی مزید تفصیل لکھوں گا.تو اب اجازت!
اللہ نگہبان

Advertisements
This entry was posted in creative. Bookmark the permalink.

One Response to نینو ٹیکنالوجی : میری نئ محبت

  1. dr.amer khan نے کہا:

    ما شا اللہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s