نینو ٹیکنالوجی-قسط نمبر 2

1)نینو ٹیکنالوجی کی مددسے مختصر اور تیز کمپیوٹرز کا حصول

واشنگٹن…سی ایم ڈی…امریکا اور جنوبی کوریا کے ماہرین نے ایسا ٹرانسسٹر تیار کیا ہے جس کا سائز ایک نینو میٹر ہے اور اسے دنیا کا سب سے چھوٹا ٹرانسِسٹرکہا جا رہا ہے۔ اس ٹرانسِسٹر کی تیاری میں کاربن کے چھ ایٹموں کو سونے کی دھات سے بنے دو برقی مورچوں کے بیچ میں معلق رکھا گیا ہے۔ ایک نینو میٹر والی خصوصیات کے حامل دائرے کی شکل کے اس ٹرانسِسٹر سے برقی رَو انتہائی تیزی سے ایک مورچے سے دوسرے کی جانب جاتی ہے۔ انتہائی چھوٹی ساخت کا یہ آلہ عن قریب کمپیوٹر کے اندرونی نظام سے منسلک ہوکراسے ٹھنڈا رکھے گا اور توانائی کی بچت کو بھی ممکن بنائے گا۔

2)کچھ سال میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی فوجیوں کے لیے سامان ایک سے دوسری جگہ پہنچانا آسان ہو جائےگا۔ جہاں اس وقت ایک فوجی کو 10 یا 15 کلو کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ہے وہیں کچھ سال بعد یہ صرف 10 یا 15 گرام رہ جائےگا۔

3) اسی ماہ روس میں ہونے والے ایک بزنس فورم میں نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی ایجادات کی نمائش ہو گی جس میں چھاتی کے سرطان کا پتہ چلانے والے تھرمل کیمرے، پائپ لائنوں کے اخراج کا پتہ چلانے اور صنعتی آلات کے استعمال کی مدت میں اضافہ کا باعث بننے والی خصوصی تہہ اور نینو ٹیکنالوجی سے تیار کردہ اشیاء کی نمائش ہو گی۔

4)نینو فائبر سے بننے والے پردے روشنی کو راستہ دیتے ھیں مگر شور کو نہیں۔

ہمارے گھروں میں نینا ٹیکنولوجی سے کئی تبدیلیاں آئیں گی۔ بیس پچیس سال میں مضبوط اشیاء ، پاور فل کمپیوٹروں اور ساتھ ساتھ مینوفیکچرینگ کی قیمت کم ہونے سے چھوٹے مگر اسمارٹ مٹیریل سے مکانات بنائے جائیں گے۔ جن کی دیواریں چھپ سکیں گی۔ ٹی وی کاغذ سے بھی پتلے، خود بخود صاف ہونے والے فرش ، گھر کے کچرے کی اسمبلروں کی مدد سے دوسری قابل استعمال اشیا میں صاف پانی اور غذا میں تبدیلی ممکن ہوجائےگی۔
حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں گے۔ اگر آپ کا علاقہ زلزلے کا شکار ہوا ہے تو سمارٹ مضبوط اشیاء سے بنےگھراپنے آپ کو ٹھیک کرلیں گے۔ گھر میں موجود چیزیں ہمارے موڈ اور ضروریات کے مطابق تبدیل ہوسکیں گی۔ گھر کی تمام اشیاء مائیکرو ویو کے برابر مالیکیولر مینوفیکچرینگ سسٹم سے بنا سکیں گے۔ کاروں میں حفاظتی چیزیں ہوں گی۔ ہوا میں معلق ننی منی مشین ہوں گی جو حادثے کے دوران آپ کے اردگرد پھیل کر آپ کو چوٹ لگنےسے بچائیں گی۔ کاریں خود کو درست کرلیں گی۔ بلکہ ان کو چلانے کی بھی ضرورت ختم ہوجائےگی۔ اور وہ اپنا ایندھن خود بنائیں گی۔ بعض ٹیکنولوجسٹ خیال ہے کے وہ خود اُڑیں گی بھی۔

نینو مشین ہمارے سبزے کو نقصان دینے والے کیڑوں سے بچائیں گی۔ نینوں مشین ان کیڑوں کو کھا جائیں گی جو نقصان دہ ہں ۔ گھانس کو کاٹنے والی مشین بھی چھپی نینومشین ہوں گی۔ ہم اپنی فضا کو صاف کرسکیں گے۔ ہم تمام زمینوں کے اجزا صحیح کرسکیں گے تاکہ ہر زمین کاشت کاری کے قابل ہوسکے۔ہم نابود ہوئے نباتات اور حیوانوں کو پھر سے لاسکیں گے۔ اوزون گیس کی سطح کو درست کرسکیں گے اور نیوکلیر وسٹ کا مسلہ حل ہوجائے گا۔

نیناٹیکنولوجی میں چیزیں بنانے کے لیےسب سےمفید ایٹم “ کاربن“ ہے۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ بھی کاربن سے بنتا ہے۔ جس کا نتیجہ “ گرین ہاوس افیکٹ“ ہے نینو ٹیکنالوجی سے آب و ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مفید ہوا میں تبدیل کیا جاسکے گا۔

کیونکہ مالیکیولر مینوفکچرینگ چیزوں کی ساخت میں ایٹموں کو ترتیب دیتی ہے ۔اس طرح کی مینوفکچرینگ میں کوئی ویسٹ نہیں پیدا ہوگا۔

نینو ٹیک کی بایوٹیکنالوجی میں حد سے ذیادہ استعمال ہوگا۔ ہمارے اپنے جسم کے سیل کے برابر مائکرواسکاپک مشین ہماری بدن کے اندر سفر کرسکیں گی اور ہماری بیماریوں سے متعلق معلومات جمع کریں گی۔ اور پھرمالیکیولرسرجری کی مدد سے ان کو درست کرسکیں گی۔ وائرس ، بِکٹیریا، کنسرسیل کی شناخت کر کے ان کو بغیرصحت مند ٹیسو پر اثر انداز ہوئے نکالا جاسکے گا۔ مالیکول کے تنظم کو صحیح کرکے عمر کو بھی ساکن کیا جاسکے گا۔
اور ہم خیالات کے ذریعہ ہمارے جسم کے اندر کی نینو مشینوں سے بات کرسکیں گے۔ کچھ لوگ اپنے فطری عضلہ کو مضبوط مادہ سے تبدیل کرنا چائیں گے تاکہ وہ جہازوں سے کود سکیں اور زمین پر قدم رکھیں اور چلنے لگیں۔ یا ایک تیرنے والا اپنے جسم میں غیرفطری بلڈ سیل میں اتنی آکسیجن جما کرسکے کے وہ پانی کی سطح کے نیچےآدھے گھنٹے رہ سکے۔

لیکن ابھی لافانیت پر یقین کرنا ممکن نہیں ہوا ہے۔ لیکن یہ فطری ہے کی ایسا ایک دن ممکن ہوگا۔

نینو ٹیکنالوجی ہمارے دماغ کا حصہ بن جائے گی۔ نینو ٹیکنالوجسٹ کا کہنا ہے ایک دن لائبری آف کانگرس کی ساری کتابیں بدن کے ایک سیل کے برابر کمپیوٹر میں رکھی جاسکیں گی۔ یہ کمپیوٹر انسانی دماغ کی طرح ہوگا۔ شروع شروع میں ایسے کمپیوٹر ہماری جلد کو اسکرین کی طرح استعمال کریں گے ۔ لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ دماغ سے بغیر کسی ذرائع کے بات چیت کریں گے۔ ہر انسان کے پاس تمام نالج ہوگی اور اس کا دماغ آج کے انسان سے میں ذیادہ نالج رکھے گا۔

آپ اپنے موڈ کو ہر وقت تبدیل کرسکیں گے۔

بعض سائنسدان کا کہنا ہے آنے والے دس سالوں میں ہم اسمبلر کا پہلا ماڈل بنالیں گے۔ بعض سائنسدان کا کہنا ہے کے ایسا کبھی بھی ممکن نہیں ہوگا۔ مگر ہرسائنسدان اس بات پر متفق ہے کہ ہم نینوٹیکنالوجی کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ اب ہم ان اسملبر سے پیچدہ نینو روباٹ بنائیں گے۔ یہ ہم سافٹ وئیر انجینروں پر منحصرہوگا یا کتنی جلدی ہم ارٹیفیشیل انٹیلیجنس رکھنے والے کمپیوٹر بناتے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in نینو ٹیکنالوجی, ٹیکنالوجی, سائنس and tagged . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s